ڈاکٹر من موہن سنگھ:سٹیٹس مین؍ماہر اقتصادیات
By
Khushwant Singh (Translated by Poonam Ayub)
ڈاکٹر من موہن سنگھ:سٹیٹس مین؍ماہر اقتصادیات
ڈاکٹر من موہن سنگھ:سٹیٹس مین؍ماہر اقتصادیات
۲۔ نیشنل فود سیکورٹی ایکٹ جو ان کے دور کا دوسرا دور اس نتائج والا عمل تھا جس میں ہر خاندان کو قانونی حق حاصل ہو گیا جس میں ۳۵ کلو ضروری اناج ماہانہ رسائی حاصل کر سکتے اور اس طرح انہوں نے غذائی تحفظ کو یقینی بنایا۔
۳۔ انہوں نے ایک بہت اہم پروگرام کا آغاز کیا ۲۰۰۶ء Maxiregaکے نام سے جس کا اصلی نام مہاتما گاندھی نیشنل و رول employmentگرانٹی ایکٹ تھا اور یہ ایک منفرد روزگار پیدا کرنے کی سکیم تھی۔ یہ اپنی نوعیت کا دنیا کا سب سے وسیع شوشل ولفیئر سکیم تھا جو دیہی دیہی صطاج پر کروڑوں لوگوں کو روزگار فراہم کرتا۔
۴۔ جی دی پی growth ان کے دس سالا دور میں (۲۰۱۴ء، ۲۰۱۳ء، ۲۰۰۵ء، ۲۰۰۴ء) انڈیا کا مین ۷.۷ فیصد کی قابل ستائش اوسط جی دی پی کی شرح کو پہنچ گئی۔ اس نے عالمی معاشی شدت روی کو تھاما اور اس کی بھی اقتصادی کارکردگی کو مضبوط ڈگر پر لا کھڑا کیا۔
۵۔ ادھار: یوپی اے کی حکومت نے ایک منفرد پروگرام شروع کیا جس میں ہر بالغ ہندوستانی کو اپنی شناخت کے مطابق ادھار کارڈ مہیا کرنا تھے اس کے ساتھ Subsudy اور بہت سے فوائد ان تک پہنچا سکیں گے۔
۶۔ معلومات کا حق کا ایکٹ ۲۰۰۵ء: یہ ایک تاریخی قانون تھا جو شفاقیت میں یقین رکھنے والا لیڈر ڈاکٹر من موہن سنگھ ہی آگے لا سکتے تھے۔ اس قانون کی مدد سے شہریوں کو یہ حق دیا گیا کے وہ سرکاری محکموں میں اور ان کے کاموں کے معاملات میں معلومات کر سکتے ہیں۔ اس سے ایک با خبر اور شراکتی جمہوریت کی بنیاد بنی۔
یو پی اے کی حکومت کے کامیاب فیصلوں کی مہربہت بہت لمبی اور نایاب تھی۔ اس میں شمار ہیں پاکستان کے ساتھ امن کا عمل اور مارچ ۲۰۰۶ء ایک تاریخی جوہری معاہدہ جس کی وجہ سے انڈیا کو منفرد قسم کی رسائی حاصل ہو گئی۔ امریکی جوہری ایندھن اور ٹیکنالوجی تک۔ان کا یہ پختہ عظم تھا کہ اپنے وطن پر اپنا سب کچھ نچھاور کر دیں۔ ان کے اس عظم نے ان کی رہنمائی کی وجہ سے یو پی اے حکومت نے ایک بار پھر ۲۰۰۹ء کے لوک سبھا انتخابات میں شاندار جیت کا سامنا کیا۔ وہ ایک بار پھر انہوں نے بطور وزیراعظم حلف اٹھانے کا مو ملا۔ ۲۲ مئی ۲۰۰۹ء میں جو انہوں نے پوری ایمانداری اور انتھک محنت سے نبھایا لیکن پھر حالات نے پلٹا کھایا اور ۲۰۱۴ء میں کانگرس پارٹی کو ہار کا سامنا ہوا۔ یہ وہ وقت تھا جب گجرات کے وزیراعلیٰ سریندر مودی کی ایک دم چڑھتی مقبولیت اور بطور وزیراعظم کے امیدوار کے طور پر سامنے آیا اور دوسری طرف کانگرس پارٹی کے اندرونی تنازعات اور اپنے ہی وزیراعظم کو کمزور کرنے کی سازشیں سامنے آ گئیں۔ اس ناساز گار حالت میں ڈاکٹر سنگھ نے اپنے عہدے سے دستبردار ہونا بہتر سمجھا اور یوں ان کی عمر بھر ملک کی خدمت کا ایک عظیم دور اختتام کو پہنچ گیا۔
جس وقت وہ اپنے دوسرے دورے کے آخری مرحلے میں تھے انہوں نے پیشنگوئی کے انداز میں فرمایا کہ ‘‘تاریخ کی گواہی میرے لیے میڈیا سے زیادہ مہربان ہوگی’’۔ آج ان کے یہ الفاظ ایک ناقابل تردید سچائی سے گونجتے ہیں اور آج تک دنیا بھر میں ان کا عزت کا مقام ہے جو انہیں جدید ہندوستان کا visionary architectکے طور پر دیکھتی ہے ایک اعلیٰ درجے کے اسکالر جس نے ہمیشہ شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ اپنے وطن کے دوبارہ منتخب وزیراعظم۔ فل حال وہ ایک سادہ زندگی بسر کر رہے ہیں دہلی میں۔ گلوبل سکھ ٹریل انہیں سہی معنوں میں اپنے وطن کے حقیقی مجسمے کے طور پر دیکھتی ہے۔ ڈاکٹر من موہن سنگھ کی یہ مختصر سی biographyان کی بیٹی دمن سنگ کے تعاون کے بغیر نہیں تھی جو خود بھی ان کی biography۔
Strictly Personal: Manmohan Gurcharan کی مصنفہ ہیں۔