ڈاکٹر من موہن سنگھ:سٹیٹس مین؍ماہر اقتصادیات

By
Khushwant Singh (Translated by Poonam Ayub)

ڈاکٹر من موہن سنگھ:سٹیٹس مین؍ماہر اقتصادیات

       بہت سے لوگوں کیلئے ان کا کیرئیر ایک خواب کی مانند ہے لیکن ان کیلئے بہت سے چلتے قدموں کی ایک کڑی تھی جو ان کی آہستہ آہستہ آگے اور اوپر لے جاتی گئی۔ ان کو اس سفر میں بہت سے اہم اداروں میں کام کرنے کا موقع ملا اور بہت سے عمدہ دماغ والے افراد کے ساتھ ملاقات کا اعزاز ملا۔ تعلیمی دنیا سے لے کر اقوام متحدہ تک اور ایک دیانتدار بیوروکریٹ سے لے کر ایک معزز اور باوقار statemanاور پھر آخر مرحلے پر بطور ملک کا وزیراعظم پہنچ گئے۔ اس طویل سفر کا سوچتے ہوئے ان کے چہرے پر ایک ہلکی سی مسکان کی جھلک نظر آئی جو کہہ رہی ہوWahe Guru اور عاجزی اور تشکر کا اظہارکر رہی ہو۔ ۱۹۷۶ء میں سیکرٹری فنانس کے عہدے کے بعد وہ ۱۹۸۲ء میں Reserve Bank of Indiaنے گورنر بنے اور پھر ۱۹۸۵ء میں وہ دو سال ڈپٹی چیئر مین پلانگ کمیشن بنا دیئے گئے۔ ان کو ساؤتھ کمیشن سیکرٹری جنرل بطور کام کرنے کا موقع بھی ملا جو ایک جنوا میں ایک عالمی تھنک ٹینک تھا۔ اس کے بعد وہ چندرا شیکھر کی حکومت میں وہ اقتصادی امور کے مشیر بن گئے۔ کچھ عرصے کیلئے انہوں نے بطور چیئرمین یونیورسٹی گرانٹ کمیشن میں بھی خدمات سر انجام دیئے۔ انہوں نے دہلی میں اپنا ایک گھر بھی تعمیر کر لیا تھا جس میں انہوں نے گائے بگائے رہنے کا موقع ملتا لیکن ۱۹۸۴ء کے دنگوں کے بعد انہوں نے اس کو بیچنے کا فیصلہ کیا۔ سکھ مخالف فرقہ وارانہ فسادات پر انہیں گہرا رنج محسوس ہوا اور اِندرا گاندھی کی موت بھی ان کیلئے صدمے کا باعث بنی۔ انہوں نے ایک کتاب کی شکل میں ان کو خراج عقیدت پیش کی۔ جس کا عنوان تھا اندرا گاندھی: سٹیٹس مین، سکالرز، سائنٹسٹ اینڈ فرینڈزریممبر۔ ان کا یہ پختہ یقین تھا کہ کسی ملک میں علیٰحدگی پسند سوچ کو روکنا چاہیے۔

       لیکن وہ ایک غیر سیاسی Politicianتھے اور تجربے سے انہوں نے یہ سیکھا کے سوچ میں فرق اور پیچیدگی کو بھی اپنانا ضروری ہے اور انہیں یقین تھا کہ ریفارمز، جدید سوچ، صنعتی کنٹرول اور لائیسنس راج کا خاتمہ بہت لازمی اورملکی برامدات میں بھی خاطرخواہ اضافہ کرناہے۔ ۱۹۸۵ء میں اس وقت کے وزیر اعظم راجیو گاندھی اور وزیر خزانہ وی پی سنگھ نے ایک جدید پلین تیار کیا جو ایک نئے سوچ کی عکاسی کرتا تھا ملک کی معیشت میں اور اس کو صنعت کاروں نے بہت سراہا۔ لیکن راجیو گاندھی کی اچانک موت نے بہت سے ان تجاویز پر روک لگا دی۔ ۱۹۹۱ء میں نئے وزیراعظم نرسیما ء راؤ نے ان کو وزیر خزانہ بننے کی دعوت ارسال کی جس کو انہوں نے سنجیدگی سے نہیں دیکھا جس کے بعد ان کو ٹیلی فون کے ذریعے سختی سے پیغام ملا کے وہ اگلے دن بطور وزیر خزانہ حلف اٹھائیں گے۔

معیشت کے کپتان

       اب انہوں نے پوری طرح معیشت کے باگ دوڑ سنبھال لی تھی یہ زمانہ معاشی ایمرجنسی کا تھا اور کافی سوچ بچار کے بعد وہ اسی نتیجے پر پہنچے کے جب ان کی حکومت نے نئے کام شروع کیا تو ان کے پاس ایک قابل وزیراعظم نرسیماء راؤ کی شکل میں تھا لیکن معاشی بحران گہرا تھا۔ غیر ملکی ذخائر کم ہو گئے تھے اور بین الاقوامی ادارے مزید قرضے دینے سے ہچکچا رہے تھے۔ اس وقت نئی پیداوار رک چکی تھی اور منفی ہو گئی تھی اور پہلی بار انڈیا کی تاریخ میں اس کوبیرونی ادائیگی کی ذمہ داریوں میں ناکارہ (Default)ہونے کا امکان سامنے منڈلا رہا تھا۔ اب جب کے وطن کو معاشی اور مالیاتی نظام میں شدید مندی آ جانے اور یہ وسیع پیمانے پر بے روزگاری اور ملکی پیداوار میں کمی ہونے سے افراط زر (Inflation)بے قابو ہونے کی حد تک بڑھ چکی تھی۔ اب ان کی حکومت کو فوری قدم اٹھانے تھے جو بین الاقوامی اعتماد کو بحال کر سکیں اور مہنگائی کو بھی کنٹرول کر سکیں اور اس کیلئے ادائیگیوں کے توازن کو برابر کرنا لازمی تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر تھوڑا سا وقت مل جاتا تو اس دوران کا فائدہ اٹھاتے ہوئے Long term سٹرکلچرل (Structural)ریفارمز کے ذریعے وہ مثبت جواب تیار کر لیتے۔ ساتھ ساتھ انہوں نے یہ یقین دلایا کہ اگرصحیح اقدامات اٹھائے گئے تو recessionپر بھی تیزی سے قابو پاجا سکے گا لیکن دو یا تین سال کا وقت درکار ہوگا اور وہ جھوٹے وعدے نہیں کرنا پسند کرتے تھے۔

       دمن نے انہیں بتایا کہ جو اصلاحات اس قدر سخت تھے کہ ان کے رد عمل سے ساتھی ritics cمیں تبدیل ہو گئے۔ خوش قسمتی سے ان اصلاحات کے نتائج فوری نظر آئے اس وقت سب کی توجہ ڈاکٹر من موہن پر تھی کیونکہ ان کا یہ تجربہ سب لوگ غور سے دیکھ رہے تھے جو وہ قومی مشن کی شکل میں سر انجام دے رہے تھے۔ انہوں نے لائسنس راج کا خاتمہ کیا ریاست کا دباؤ معیشت پر کم کر دیا اور ساتھ ساتھ درآمدی ٹیکس بھی کم کر دیا۔ یہ قدم لینے پر غیر ملکی سرمایہ کاری (FDI) کی راستے میں بہت سی رکاوٹیں بھی ہٹ گئیں اور بہت سی پبلک شعبہ کی کمپنیاں نجکاری کی طرف گامزن ہو سکیں۔ اس موقع پر ڈاکٹر صاحب نے اپنے عاجزانہ انداز میں ایک کہاوت کا ذکر کیا۔ ‘‘کامیابی کے بہت سے والد ہوتے ہیں لیکن ناکامی کا ایک بھی باپ بھی نہیں ہوتا۔’’

       انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ترقی کے عمل کو پایہ تکمیل تک لے جانے کیلئے ایک با صلاحیت ٹیم درکار ہو جو اپنے آپ کو اس مشن کیلئے وقف کر دے اور انہوں نے ایسی ہی ایک ٹیم بنائی جو قابل، محنتی اور پختہ عزم رکھتی تھی۔ میرا ہمیشہ یہ خیال تھا کہ ان کاموں کی رفتار بتدریج ہونی چاہیے لیکن جو کچھ اردگرد پایا اس سے یہ معلوم ہواکے وقت ہمارا ساتھ نہیں دے گا۔ ان کی نظر میں پی وی نرسیما راؤ کو ایک ذہین فرد کی نظر سے دیکھتے تھے جو بات چیت کے ساتھ اتفاق رائے پیدا کرنے میں یقین رکھتے تھے۔

       ان کی پارلیمنٹ کی تقریر اور وہاں مالیاتی بجٹ پیش کرنا ان کو اولین تجربوں میں تھا۔ انہوں نے ان تقریروں میں اردو زبان کے بہت سے موزوں اشعار شامل کئے۔

       وہ liberalistionکے بہت بڑے حامی تھے اور ان کو پورا احساس تھا کہ معیشت ایک دو دفعہ کھل جائے تو ملکی اور غیر ملکی دونوں قسم کی competitionکا آغاز ہو جاتا ہے اور پھر غیر ملکی سرمایا اور ٹیکنالوجی دونوں تک رسائی ہو جاتی ہے۔

       لیکن یہ معاشی رلفارمیز کا سفر جاری نہ رہ سکا چونکہ وطن میں ٹکراؤ اور تصادم کاماحول بڑھنے لگا اور ۱۹۹۲ء کے بابری مسجدکے ہولناک واقعہ نے کشیدگی اور بڑھا دی اور ہر قسم کے کاروبار پر شدید اثر آ پڑا۔ اس کے فوراً بعدہرشد مہتا کا بینک گُٹھالا آ گیا جس میں oppositionنے وزیر خزانہ کو ہی قصور وار ٹھہرایا۔ ان کو یہ احساس ہوا جیسے کبوتر کو بلیوں کے آگے ڈال دیا ہے۔

At the South Commission, Geneva, 1988 At the South Commission, Geneva, 1988

       یہ ایسے سارے کیرئیر کے دوران کبھی لوک سبا میں سیٹ حاصل نہ کر سکے اور متواتر راجیاصباہی میں بیٹھتے تھے اور ۱۹۹۸ء میں وہ لیڈر آف اپوزیشن اپر ہاؤس میں مقرر ہو گئے۔

       اس کے باوجود کے وہ چوٹی کے درجے کے سیاستدان تھے انہوں نے کسی الیکشن میں حصہ نہیں لیا۔ ۱۹۹۹ء ان کی پارٹی نے اس کو جنوبی دہلی سے انہیں اپنا امیدوار بنا دیا۔ اس مشکل مرحلہ کیلئے ان کی ساری فیملی اکٹھی ہو گئی لیکن بیچاری دمن کو اس وقت nervous breakdownکا سامنا کرنا پڑا ‘‘بد قسمتی سے کانگرس پارٹی کو دہلی کی ایک سیٹ نہ مل سکی اور وہ اپنی اپوزیشن لیڈر کے طور پر اپر ہاؤس میں ۲۰۰۴ء تک قائم رہے۔

تیرویں وزیراعظم

       لگتا ہے قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا اور ۲۰۰۴ء کے الیکشن کے نتائج ہونے کے بعد ان کی پارٹی نے انہیں بطور وزیراعظم منتخب کر لیا اور یوں انہوں نے اس نئے عہد کا حلف ۲۲ مئی ۲۰۰۴ء میں بطور ہندوستان کے ۱۳ویں وزیراعظم کی حیثیت سے حلف اٹھایا ان انتخابات میں ان کی پارٹی سب سے بڑی پارٹی بن کر سامنے آئی اور انہوں نے UPAکے نام سے ایک coalitionتیار کی اور سب کو چونکا دینے کا فیصلہ کیا جب من موہن سنگھ کو اس کا ہیڈ مقرر کر دیا۔ اگلے دن کی اخبار کی سرخیوں نے Singh is king لکھ کر یہ اعلان کیا اور سکھ برادری میں تو بھر پور جوش کی لہر اُمڈ آئی۔ ان کیلئے ایک مرہم کا کام دیا اور ایک سدباب کا کام دیا جو لوگ ابھی تک ۱۹۹۴ء کے شرمناک حالت سے جونج رہے تھے۔

       ۱۱، اگست ۲۰۰۵ء کو انہوں نے راجیاصبا میں تقریر میں عوام سے معافی مانگی اور خاص طور پر اپریشن بلوسٹار کے ہولناک واقعات کا ذکر کیا اور فرمایا کے مجھے سکھ برادری سے معافی مانگنے میں کوئی جھجک نہیں محسوس ہو رہی اور میں صرف سکھ برادری سے نہیں بلکہ پوری قوم سے معافی کا خواں ہوں کیونکہ یہ واقعات ہمارے آئین میں جو کچھ اصول شامل ہیں ان کی نفی کرتا ہے۔

بلندیوں اور اونچائیوں کا دس سالا سفر

       انہوں نے تھوڑے سے عرصے میں اپنے ہم وطنوں کا دل جیت لیا چونکہ یہ ان کی نیک نیتی اور محنتی طبیعت کی وجہ تھی جو انہوں نے ایک شاندار شہرت ملی جس کا چرچہ باقی دنیا کے ممالک میں بھی پھیل گیا۔

       افسوس ہے کہ یہ مختصر آرٹیکل ان کے اس دور کو پوری طرح بیان نہیں کر پایا لیکن پھر بھی میری کوشش ہو گی کہ ان کے چیدہ چیدہ یادگار اور تاریخی اقدام جو انہوں نے بطور وزیراعظم کو یہاں سمیٹا جائے ان کے یہ اقدام اس لیے بھی قابل ذکر ہیں چونکہ انہیں نہ صرف کروڑوں لوگوں کی زندگی کو بہتر بنایا بلکہ ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا۔

۱۔      بنیادی تعلیم کا حق:۲۰۰۹ء میں ایک تاریخی مرحلہ طے ہوا جب یو پی اے حکومت نے بچوں کی مفت اور لازمی تعلیم کا ایک بل پاس کیا (RTE)اس ایکٹ کی وجہ سے ۱۴، ۶،۶ سال کے بچے اب اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک روشن مستقبل کی امید کرسکتے تھے۔



Khushwant Singh (Translated by Poonam Ayub)
Translated by: Tahmina (Poonam) Aziz Ayub saw her schooling years in Karachi, Islamabad, and Rome. She holds a postgraduate degree in Social Anthropology from the University of Sussex, UK. Her professional focus was on Gender and Development, and she remained involved with national NGOs and the United Nations for over 15 years. She married a diplomat and lived in New York, Rome, Cairo, and The Hague. In 2019, she co-authored a biography on the unusual life journey of Begum Raana Liaquat Ali Khan. The biography was launched at the prestigious Jaipur Literature Festival. She has also authored “The Forgotten Legacies of Rai Bahadur Sir Ganga Ram.” Currently, she resides in Islamabad with her husband, Arif Ayub, and son, Shehryar.