ڈاکٹر من موہن سنگھ:سٹیٹس مین؍ماہر اقتصادیات
By
Khushwant Singh (Translated by Poonam Ayub)
ڈاکٹر من موہن سنگھ:سٹیٹس مین؍ماہر اقتصادیات
ڈاکٹر من موہن سنگھ:سٹیٹس مین؍ماہر اقتصادیات
حصہ دوم: ایک نیا خاندان
اس دوران کے من موہن سنگھ اپنی زندگی کا کافی حصہ اپنے خاندان کے ساتھ گزار چکے تھے اور ان کے والد نے ایک نیا خاندان شروع کر دیا۔ جب خاندان والوں نے ان پر تنقید کی تو گیارہ سالوں بعد وہ آخر کار اپنے بیٹے کو چکوال سے پشاور اپنے ساتھ لے آئے۔ یہ ان کیلئے اپنے والد کے ساتھ رہنے کا پہلا موقع تھا لیکن وہ اس تبدیلی سے زیادہ خوش نہیں تھے۔
حالانکہ انہوں نے بہت سا پیار حاصل کیا، ان کی سوتیلی ماں ان کو پیار سے بھالی کے نام سے بلاتی تھی اور انہوں نے اپنے بچوں کی طرح ان کی دیکھ بھال کی۔ پشاورمیں بھی خالصہ لڑکوں کا ہائی اسکول تھا جہاں انہوں نے داخلہ لے لیا اور اب ان کو انگریزی میں پڑھائی کرنے کا بھی موقع ملا اور آٹھویں جماعت کے مشترکہ امتحان میں ٹاپ پوزیشن پر پہنچ گئے اور سارے ٹیچرز کو احساس ہوا کہ یہ ایک اُبھرتا ستارہ ہے۔
اب ان کے والد کے مالی حالات بہتر ہونے لگی اور اب وہ خود خشک میوں کے بیوپاری بن گئے اور عمر کے آخری سالوں تک یہی کام کرتے رہے لیکن مالی طور پر وہ کبھی بھی آرام کی زندگی نہیں گزار سکے۔ جب من موہن ۱۸ سال کے تھے تو ان کو احساس ہوا کہ وہ ایک استاد بننا چاہتے ہیں۔ پڑھنے اور پڑھانے کیلئے ان کی بے پناہ پیاس تھی اور وہ اب تک ان کی زندگی میں قائم ہے اور اسی بنا پر وہ میرے بیٹے کی آدھیراج کی تعلیم اور اس کی کالج Curriculumپر بہت سے سوال پوچھ رہے تھے۔
جوانی کے دنوں سے وہ اخباروں کا مکمل مطالعہ کرتے تھے اور حالت حاضرہ سے آشنا رہنے کیلئے بہت سی اشاعتوں کا بھی مطالعہ کرتے تھے۔ لیکن اس کے باوجود وہ کسی بھی سیاسی سوچ سے وابستہ نہیں تھے ان کیلئے آزادی ہندوستان گہرے معانے رکھتا تھا اور اس نے اسی وجہ سے دوسری جنگ آزادی میں انگلستان کی فتح کا جشن نہیں منایا۔
زندگی کا ایک تاریک موڑ تب آیا جب ہندوستان کے دو حصے ہو گئے اور اس کا فائنل امتحان کا نتیجہ ابھی آنا تھا اپنے والد کی طرح انہوں نے ساری عمراکالی دلvalues کو سینے سے لگایا اور اس سوچ کے برعکس انہوں نے آزادی کی جنگ اور سرحدیں میدان جنگ کی شکل اختیار کر چکی تھیں اور اپنی حالات میں گرمکھ سنگھ سب کو لے کر سرحد پار آئے اور ہلدوانی (نینی تال کے نزدیک) آ گئے اور ان کی زندگی کا نیا باب شروع ہو گیا۔
یہ وہ دن تھے جب ہندوستان اپنی نئی کہانی لکھ رہا تھا اور سب لوگ مذہبی نفرت اور تقسیم تلے دبے ہوئے تھے بہت سے جانوں کا نقصان اور بہت سے جمع پونجی اور دولت کا کھو جانا، خاندانوں کا جدا ہو جانا اور جائیداد پیچھے چھوڑ کے آگے نکل جانا ان کے اپنے دادا اور بہت سے رشتہ دار جنگوں میں مارے گئے اور جو بچ گئے ان کو اپنی زندگی کا آغاز دوبارہ کرنا پڑا۔ کچھ عرصہ گرمکھ سنگھ ہلد وانی میں رہے اس کے بعد وہ امر تسر آ گئے اپنے خشک میوہ جات کی تجارت دوبارہ شروع کرنا چاہتے تھے لیکن افسوس کی بات یہ تھی کہ انہوں نے ساری عمر اپنا ذاتی مکان نہ بنا سکے، سو چند سالوں کے بعد افسوس کے ان کی بیوی کی دماغی صحت بھی کچھ اچھی نہیں رہی۔ اس دوران من موہن سنگھ اپنی تعلیم جاری نہ رکھ سکے چونکہ ان کو امتحان دوبارہ کرنا تھا لیکن اپنی تعلیم کی پیاس کو بجھانے کیلئے وہ ہلد وانی کے مسلمانوں کے علاقے میں جا کر اردو لائبریری میں اخباروں کا مطالعہ کرتے۔ اس دوران جب ماہاتما گاندھی کی اچانک موت واقع ہوئی تو ان کو بے انتہا صدمہ محسوس ہوا۔
مارچ ۱۹۴۸ء میں تعلیم کی صورت حال normalہوئی اور ایک نئی پنجاب یونیورسٹی کا آغاز ہوا۔ جن حالات میں انہوں نے migration کی تھی تو ان کے پاس نہ کتابیں اور نہ پڑھائی کا ماحول تھا لیکن وہ پھر بھی ۸۰۰ میں سے ۴۹۶ نمبر حاصل کر سکے اور ایک وظیفہ بھی۔ اپنے امتحان کیلئے اپنے والد کے ساتھ انہوں نے دہلی کا سفر کیا جہاں انہوں نے کسی کے ہاں کشمیر گیٹ کے علاقے میں قیام کیا وہ دہلی کے راستوں سے نہ شناس تھے اور ان کو دو مختلف سینٹرپر جانا پڑتا جو کے کرول باغ اور دوسرا گول مارکیٹ میں تھا اور بہت مشکل سے یہ مرحلہ بھی طے ہو گیا۔ اب ان کے سامنے سب سے بڑا مسئلہ یہ تھا کہ والد کی خواہش کے سامنے سر جھا دیں جو وہ چاہتے تھے کے یہ ڈاکٹر بنے یا اپنے خواہش کے مطابق تعلیم جاری رکھیں اور scholarship کا استعمال بھی کریں۔ پہلے تو انہوں نے Fsc کا آغاز کیا خالصہ کالج امرتسر میں لیکن دو ماہ کے بعد وہ یہ کورس جاری نہ رکھ سکے پھر انہوں نے والد کا کاروبار میں ہاتھ بٹانے کا سوچا لیکن اس میں بھی کامیاب نہ ہوئے۔ اب مایوس ہو کر انہوں نے ہندو کالج میں پناہ لی اور لبرل مضامین میں داخلہ لے لیا، جس میں فرانسیسی زبان، حساب، انگریزی اور معاشیات شامل تھے۔ ان کا اس وقت تو وظیفہ ضبط ہو گیا لیکن جب FScکے result میں پہلی پوزیشن ملی تو ایک تازہ وظیفہ مل گیا۔ وہ ان دنوں بہت خوش رہتے چونکہ کالج کی زندگی سے انہیں خوشی اور سکون حاصل ہوتا تھا اور وہ ہاکی اور فٹ بال کھیلنے میں بھی مشغول رہتے اور لٹریچر اور سیاست کے بحث مباحثوں میں بھی اچھا وقت بتا دیتے تھے۔
ان کی بیٹی ہنستے ہوئے بیچ میں بولی کے وہ تصور بھی نہیں کر سکتی کے ان کے والد ایسے کھیل بھی کھیلتے تھے۔ وہ ہر قسم کے فنی اور سیاسی کاموں میں مشغول رہتے اور ایک دفعہ انہوں نے یونین کا صدر بننے کی بھی کوشش کی۔ ان کی کوشش رہتی کے وہ سارے نامور لوگوں کا خطاب ضرور سنیں جو ان کے کالج میں مہمان لیکچر کیلئے آتے مثلاً سردار پٹیل اور ارونا عاصف علی۔ اور ان کے ذہن میں نہروجی کیلئے بہت گہری عقیدت اور عزت تھی۔ وہ بغیر کسی سیاسی لگاؤ کے بہت سے لوگوں کو خطابات سے بھی لطف اندوز ہوتے جس میں RSS آکالی دل اور دیگر socialistتنظیموں سے بھی خوشی حاصل کرتے، انہوں نے آل انڈیا سکھ سٹوڈینٹ ادارے کی بھی ممبر شپ حاصل کر لی۔ خود تو وہ Serious قسم کے تھے لیکن اب وہ خوش مزاج لوگوں سے ملنے جلنے لگے اور خاص ذکر انہوں نے سدرشن بھاسکر کا کیا جن کی دوستی سے وہ بہت مانوس ہو گئے تھے اسی دوران ان کی دلچسپی میں معیشت زیادہ امڈ آئی اور ان کو یہ یقین ہونے لگے کہ یہ واحد راستہ ہے اگر غربت افلاس اور بھوک کا خاتمہ کرنا ہے۔ ان کی بیٹی نے بھی اس سوچ کی عکاسی کی وہ ہمیشہ ان سوالوں میں الجھے رہتے کہ غربت کی وجوہات کیا ہیں اور کچھ ممالک خوش حال اور کچھ ملک غریب اور محدود۔
گھر کے اور فیملی کے حالت بھی تیزی سے بدل چکے تھے اوروہ بھابھی جی کو دماغ کے علاج والے ہسپتال میں داخل کرنا پڑا اور من موہن باقاعدگی سے انہیں ہر ہفتے ملنے جاتے ان کی دادی بھی عمر کے ساتھ کمزور ہو گئیں تھیں اور انہوں نے ایک بیوہ کرشنا کور کو اپنے پاس مدد کیلئے رکھ لیا اور کچھ عرصے میں گرمکھ نے ان سے شادی کر لی۔ ان کو پیار سے سب بی جی کہتے تھے اور ان کا ایک چھوٹا سا بیٹا بھی تھا۔
اب خاندان کے افراد بھی بڑھنے لگے اور ٹوٹل دس بہن بھائی ہو گئے۔ من موہن سب سے بڑے تھے اور وہ محنت اور لگن سے اپنے تعلیم توجہ دیتے رہتے۔ ۱۹۵۲ء میں انہوں نے B.A Honoursمیں اول پوزیشن حاصل کی۔ ان کی استاد کا پختہ خیال تھا کہ اب انہیں معاشیات میں M.Aڈگری کی طرف بڑھنا چاہیے۔
اس مقصد کیلئے انہیں ہوشیار پور جانا پڑا اور پہلی بار ۲۰ سال کی عمر میں وہ ہوسٹل میں رہنے لگے اور اب بھی پہلے کی طرح وہ اپنا وقت سمینار اور لیکچرز میں گزارتے رہے اور وہاں کی بہت عمدہ لائبریری میں بھی مشغول رہے۔ ان کے کالج میں یونیورسٹی آف (Illinois)سے بھی مہمان کے طور پر استاد آنے لگے اور ان کی عالمی منظر نامے سے بھی سناشائی کا موقع ملا۔ ان کے دوست اور احباب کا حلقہ بھی وسیع ہونے لگا اور اس میں ستیش بندرا، مدن لال سودان اور ہری دت بھی شامل ہو گئے اور ان کو ڈاکٹر ریگنیکر اور ڈاکٹر ہانڈا سے تعلیم حاصل کرنے کا شرف بھی حاصل ہوا۔ اس دوران ان کے آئندہ کے کیرئیر کو لے کر مشورے ہوتے رہے لیکن وہ اب بھی ٹیچنگ کو ترجیح دیتے تھے۔ انہیں کیا معلوم تھا کہ زندگی ان کو کس موڑ پر لے جائے گی آئندہ کے وقتوں میں۔
Punjab University College, Department of Economics, 1954: Manmohan in row 1, second from right; Satish Bindra in row 1, fourth from right; Lalita Anand in row 2, seventh from left; M.L. Sudan in row 3, fourth from right; Hari Dutt in row 3, extreme right; B.S. Minhas in row 3, second from left, followed by D.R. Handa, A.S. Kahlon, K.C. Palta, K.K. Dewett, S.B. Rangnekar
جون ۱۹۵۴ء میں انہوں نے پنجاب یونیورسٹی میں سب سے زیادہ نمبر حاصل کئے۔ اس موقع پر ڈاکٹر ریگنیکر نے ان کو انگلینڈ جانے پر راضی کیا جہاں وہ کمیرج یونیورسٹی میں اکنامکس ٹراپوس (Tripos)میں تعلیم پوری کر سکیں۔ یہ ‘‘معیشت کا مکہ’’ سمجھا جاتا تھا لیکن یہاں کا داخلہ کوئی معمولی کام نہیں تھا۔ سب سے بڑا مرحلہ مالی خدشات جس سے وہ دو چار تھے۔ داخلے کے انتظامات بھی انڈیا کے ہائی کمیشن کے ذریعے ہوئے تھے لیکن ہمت سے اس نے یہ مرحلے بھی طے کر لیے پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے دیوان آنند کمار نے ان کو اجازت دی کے ان کا ماہانہ ۱۷۶ روپے کی ریسرچ سکالر شپ کو جمع رہنے کی اجازت دی جب تک ان کا داخلہ مکمل نہ ہو جائے۔ ان کا سالانہ خرچ ۵۷۵ پوندسٹرلنگ ہونا تھا۔ ساتھ انہوں نے یہ شرط بھی رکھی کہ واپس آ کر وہ دو سال یونیورسٹی میں ملازمت کریں گے۔ سال ۱۹۵۵ء میں ان کا یہ خواب بھی پورا ہوگیاجب ان کو سینٹ جان کالج،کمیرج میں داخلہ مل گیا۔